امریکی فوج کا پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر امداد روکنے کا فیصلہ

0
360
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کر لے تو یہ امداد بحال کی جا سکتی ہے

امریکی فوج کا پاکستان کی 30 کروڑ ڈالر امداد روکنے کا فیصلہ

امریکی فوج کا کہنا ہے انھوں نے پاکستان کی جانب سے شدت پسند عسکری گروہوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں نہ کرنے پر 30 امریکی کروڑ کی امداد منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

سینچر کی شب پینٹاگون کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع یہ اب یہ رقم ’دیگر فوری ترجیحات‘ پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر نے مزید کہا کہ امریکہ پاکستان پر ملک میں سرگرم’تمام دہشت گرد گروہوں بشمول حقانی نیٹ ورک اور لشکر طیبہ کے خلاف بلاامتیاز کارروائی‘ کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔

پینٹاگون کی جانب سے اس تجویز کی امریکی کانگریس سے منظوری ضروری ہے۔

اسی بارے میں مزید پڑھیں

امریکہ نے پاکستان کو کتنی امداد دی؟

‘پاکستان امداد کی بجائے شدت پسندی روکنے پر توجہ دے’

’امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد روک دی‘

امداد کی معطلی: ’دہشت گردی کے خلاف عزم غیرمتزلزل‘

سینیٹر مشاہد حسین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا: ’امریکہ کی طرف سے 30 کروڑ ڈالر کی کولیشن سپورٹ فنڈ ختم کرنے سے پومپیو کا اسلام آباد کا دورہ متاثر ہو گا، اور یہ انڈیا کے لیے نوالہ ہے کیوں کہ پومپیو پاکستان کے بہترین دوست چین کے خلاف امریکہ انڈیا محاذ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے 50 کروڑ ڈالر کی امداد روک دی گئی تھی۔ یہ سب رقم امریکہ کے ذمہ واجب الادا ہے، امداد نہیں!‘

یہ رقم پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں ملنا تھی جس کے بارے میں رواں سال کے آغاز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’امریکہ نے 15 سالوں میں پاکستان کو 33 ارب ڈالر بطور امداد دے کر بےوقوفی کی۔ انھوں نے ہمیں سوائے جھوٹ اور دھوکے کے کچھ نہیں دیا۔‘

ٹرمپ انتظامیہ کا پاکستان پر الزام ہے کہ وہ افغانستان میں سرگرم شدت پسندوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہا ہے تاہم پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ تبدیل کر لے تو یہ امداد بحال کی جا سکتی ہے۔

اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مبصر رضا رومی نے لکھا: ’اس کی پہلے سے توقع تھی، لیکن پومپیو کے دورے سے چند ہی دن پہلے (ایسا کرنا) برا شگون ہے۔ شاید اب نئی حکومت کے لیے پاکستان امریکہ تعلقات کو ازِ سرِ نو دیکھنے کا وقت آ گیا ہے۔ اکڑفوں دکھانے سے کام نہیں چلے گا۔‘

امریکی حکام نے روئٹرز کو بتایا کہ امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس اگر پاکستان کی جانب سے عسکریت پسندوں کے خلاف ٹھوس کارروائیاں دیکھتے تو ان کے پاس 30 کروڑ ڈالر فراہم کرنے کا موقع تھا لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا۔

لیفٹیننٹ کرنل کونی فاکنر نے کہا کہ ’پاکستان کی جانب سے ساؤتھ ایشیا سٹریٹیجی کے تحت فیصلہ کن کارروائیوں کے فقدان کے باعث بقیہ 30 کروڑ ڈالر کو ری پروگرام کیا گیا ہے۔‘

لیفٹیننٹ کرنل فاکنر کا کہنا تھا کہ اگر کانگریس نے منظوری دے دی تو پینٹاگون اب یہ رقم ’دیگر ضروری ترجیحات‘ پر صرف کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس نے پاکستان کو کولیشن سپورٹ فنڈز کے 50 کروڑ ڈالر رواں سال کے آغاز میں بھی روک لیے تھے، جس سے بعد اب روک لی جانے والی کل رقم 80 کروڑ ڈالر ہوجائے گی۔

خیال رہے کہ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو اور اعلیٰ امریکی فوجی افسر جنرل جوزف ڈنفورڈ اسلام آباد کا دورہ کرنے والے ہیں۔

منگل کو مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ دورہ اسلام آباد کے دوران گفتگو کا اہم موضوع عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ ہو گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here