سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ ریاست کے تینوں خطوں میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمولا ت مفلوج تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر ، سڑکوں سے ٹریفک غائب ، کئی مقامات پر فورسزا ور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ‎

0
219

سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ ریاست کے تینوں خطوں میں بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ اختتام پذیر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمولا ت مفلوج تجارتی و کارو باری سرگرمیاں متاثر ، سڑکوں سے ٹریفک غائب ، کئی مقامات پر فورسزا ور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں 

سرینگر/08اکتوبر
 بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے پیش نظر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کے نتیجے میں شہرسرینگرکے کچھ حصوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کے بیچ پوری وادی اور پیرپنچال کے بعض حصوں میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے معمول کی زندگی متاثر رہی ۔اس دوران ممکنہ احتجاج کے پیش نظر بیشتر مزاحمتی لیڈران کوگرفتار یا خانہ نظر بند کردیا گیاجبکہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پروادی ریل سروس بھی احتیاطی طور معطل رکھی گئی ۔ادھر سخت سکورٹی انتخابات کے بیچ وسطی کشمیر کے باغ مہتاب اور بانڈی پورہ میں فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے ۔ ادھر پولیس ترجمان نے دن کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ پر امن طور اختتام پذیر ہوا۔ادھرسخت ترین حفاظتی اقدامات کے بیچ وادی میں بلدیاتی ادارو ں کے پہلے مرحلے کے الیکشن اختتام پذیر ،رائے دہ ہندگان کے قلیل تعداد اپنے گھروں سے باہر آئی اور رائے دہی کا استعمال کیا۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا (سی این آئی ) کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے پیش نظر ہڑتالی کال پر سوموار کو سرینگر کے حساس علاقوں میںسکورٹی کے سخت انتظامات کے بیچ وادی کشمیر میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کے نتیجے میں معمول کی زندگی متاثر رہی ۔ شہر خاص کے بیشتر علاقوں میں گذشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور حساس علاقوں میں پولیس اور سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔اہلکاروں کو اہم سڑکوں ،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا۔مائسمہ ، گاﺅکدل، ریڈ کراس روڑ، ایکسچینج روڑ،بڈشاہ چوک اور ملحقہ سڑکوں پر بھی پولیس اور فورسز کی بھاری تعداد تعینات رہی اور کئی سڑکوں کو دن بھر لوگوں کی آمدورفت کےلئے بند رکھا گیا۔ تاہم شہر کے سول لائنز ائریا میں اگر چہ اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی مگر لوگوں کی نقل و حمل پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں تھی۔ شہر کے کم وبیش تمام علاقوں میںغیر مہلک اسلحہ اور آلات سے لیس سیکورٹی فورسز اور پولیس کو امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کیلئے تیار حالت میں دیکھاگیا۔ اس دوران ہڑتالی کال پر شہر اور اسکے گردونواح میں کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں، دکانیں، تجارتی مراکزا ور دفاتر وغیرہ بند رہے جبکہ گاڑیوں کی آمدروفت بھی بری طرح سے متاثر رہی ۔اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہمہ گیر ہڑتال کی وجہ سے تمام کاروباری سرگرمیاں معطل ہوکر رہ گئیں اور سڑکیں بھی دن بھر سنسان نظر آئیںجس کی وجہ سے معمول کی زندگی درہم برہم رہی۔ادھرممکنہ احتجاج کے پیش نظر حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں اور دیگر کئی مزاحمتی تنظیموں کے لیڈران کو ان کے گھروں میں نظر بند رکھا گیا جبکہ کچھ ایک کو باضابطہ طور گرفتار بھی کیا گیا۔ جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبوں اور تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے کاروباری اور دیگر سرگرمیاں مفلوج رہیں۔ شمالی کشمیر کے قصبہ سوپور سے موصولہ ایک رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میں مکمل ہڑتال کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کشمیر کے تمام قصبوں اور دیگر تحصیل ہیڈکوارٹروں میںدکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک کی آمد ورفت معطل رہی۔ سوپور اور شمالی کشمیر میں پتھراو ¿ کے کسی بھی واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کردی گئی تھی۔ وادی کشمیر کے دوسرے حصوں بشمول وسطی کشمیر کے گاندربل اور بڈگام اضلاع سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق اِن اضلاع میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔اسی دوران ہڑتال کے بیچ بڈگام کے با غ مہتاب علاقے میں اس وقت حالات کشیدہ ہو گئے جب نوجوانوں کی ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران فورسز نے مظاہرین کا تعاقب کیا تاہم وہ مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر سنگبازی کی جس کے جواب میں فورسز نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا ۔ ادھر بانڈی پورہ سے بھی موصولہ اطلاعات کے مطابق قصبے میں اس وقت حالات پُر تناو ہوگئے جب نوجوانوں کی ٹولیوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاجی مظاہرے کئے جس دوران مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا ۔ دریں اثنا جموں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خطہ چناب و پیرپنچال کے مختلف حصوں بشمول کشتواڑ، ڈوڈہ اور بانہال میں علیحدگی پسند قیادت کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران وہاں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں میں بھی معمول کی سرگرمیاں جزوی طور پر متاثر رہیں۔ دریں اثناءہڑتالی کال کے پیش نظر بارہمولہ اور بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس کو معطل رکھی گئی۔ریلویز کے ایک آفیسر نے بتایا کہ یہ اقدام سیکورٹی وجوہات کی بناءپر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا کیونکہ ماضی میں اس طرح کے حالات میں ریلوے املاک کو نقصان پہنچائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ادھرسخت ترین حفاظتی اقدامات کے بیچ وادی میں بلدیاتی ادارو ں کے پہلے مرحلے کے الیکشن اختتام پذیر ،رائے دہ ہندگان کے قلیل تعداد اپنے گھروں سے باہر آئی اور رائے دہی کا استعمال کیا ۔کرگل میں 35%رائے دہ ہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جبکہ جموں صوبے میں 60سے62%لوگوں نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔ شام 4بجے تک سرحدی ضلع کپوارہ میونسپل کمیٹی کیلئے 30%رائے دہ ہندگان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا جبکہ ہندوارہ میں 20%رائے دہ ہندگان اپنے گھرو ں سے باہر آ ¾ے اور نامزد کونسلروں کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا ۔ شہر سرینگر کے تین حلقوں 16,17،76 وارڈوں میں نامزد امیدواروں کو منتخب کرنے کیلئے 3.05%راہ دہ ہند گان نے اپنے ووٹ کا استعمال کیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here